ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آزاد رہے اور اس کی آزادی کو کوئی چیلنج كرنے والا نہ ہو، اسی قدرتی جذبہ کا احترام کرتے ہوئے اسلام نے انسان کو مکمل طور پر آزادی دی ہے.
آزادی کی اہمیت کا صحیح تجربہ وہی کر سکتا ہے جو آزاد فضا میں زندگی گزارنے کے بعد غلامی کی زنجيرون میں جكڑا ہوا ہو. اسی ليے اسلام نے آزادی پر بہت زور دیا، مولانا ابوالکلام آزاد رحمه الله لکھتے ہیں:
“انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا اسلام کا بنيادي مقصد ہے.” (تحريك آزادی صفحہ 14 )
مولانا دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
“اسلام نے ظاہر ہوتے ہی یہ اعلان کیا کہ حق طاقت نہیں بلکہ خود حق ہے، اور اللہ کے علاوہ کسی کے لئے مناسب نہیں كہ وه اس کے غلاموں کو اپنا تابع اور غلام بنائے.” ( قول فيصل صفحہ 50 )
مولانا آزاد نے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے صرف دو ہی راستے اپنانے کی دعوت دی ہے، آزادی یا موت، جنانجه وه پورے بے باکی سے کہتے ہیں: “انسانوں کے برے رویے سے کسی کی تعلیم کی حقیقت نہیں جھٹلائي جا سکتی. اسلام کی تعلیم اس کى كتاب میں موجود ہے. وہ کسی صورت میں بھی جائز نہیں رکھتی کہ آزادی کھو کر مسلمان زندگی گزارے. مسلمانوں کو مٹ جانا چاہیے.
تیسرا راستہ اسلام میں کوئی نہیں قول فیصل، 63-64
عام کاموں میں انسان آزاد ہے: اللہ نے انسان کو عام کاموں میں پوری آزادی دی، جو چاہے کھائے، جو چاہے پہنے، جہاں چاہے جائے، جو کام چاہے اپنائے، جو چاہے خریدے اور جو چاہے بيچے. اس آزادی میں عورت اور مرد برابر ہیں، شادی بیاہ میں بھی مرد اور عورت آزاد ہیں کہ جن سے چاہیں شادی کریں یہاں تک کسی لڑکی کی اجازت کے بغیر اس کی شادی بھی نہیں کی جا سکتی. اسی طرح ہر قسم کی سائنسی اكتشافات کی آزادی ہے کہ جس چیز کی چاہے تحقیق کرے.
اسلام نے انسان کو آزادی ضرور دی ہے لیکن اس آزادی کو اللہ اور اس کے احکامات کے تابع کر دیا ہے بالکل آزاد نہیں چھوڑا. اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: وماكان لمؤمن ولامؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم -
“اور )دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت کے ليے اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی ماملے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالی اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑے گا ). ” الأحزاب 36)
اس لئے اللہ اور اس کے رسول نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا انہیں کرنا اور جن کاموں سے روک دیا ان سے رک جانا ہی آزادی کا صحیح استعمال ہے. لہذا ایک شخص کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ اللہ کے اوامرسے لاپرواهي برتے یا اس کے منهيات کو پامال کرنے لگے. آزادی کے نام پر دین کا مذاق اڑانا، اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں برے الفاظ کا استعمال کرنا اور اسلام کے کسی حکم کو دل سے نا پسند کرنا جائز نہیں. بلکہ ایسا کرنے والا اسلام کے دائره سے نکل جاتا ہے. اسی طرح اگر مرد اور عورت زنا کے لئے آپس میں راضی ہو جائیں تو زنا جائز نہیں ہو جاتا. اور اگر سود کا لین دین کرنے والے آپس میں راضی ہوں تو سود جائز نہیں ہو سکتا-
محترم سامعين ! اصل غلامى كس كى هونى جاهيے؟ اللہ کو یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ اس کی کائنات کسی اور کی غلامی میں رہ کر زندگی گزارے. وجہ یہ ہے اللہ خالق ہے تو وہ اپنی ہر کائنات سے غلامی کا مطالبہ اپنے آپ کے ليے کرتا ہے اور اپنے غلاموں کو اپنی غلامی میں دیکھنا چاہتا ہے. کیونکہ اس نے پوری كائنات کو پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان كا منعم حقيقي بھی ہے. اور ان سب کى حفاظت بھی کر رہا ہے. جب اسی نے دنیا کو رچايا، اسی نے ہر طرح کے احسانات کیے، وہی دنیا کو چلا رہا ہے اور دنیا کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہی دنیا کو تباہ بھی کرے گا تو انسان کو قدرتی طور پر اسی کی غلامی میں رہنا چاہئے. اور اس کے علاوہ ہر قسم کی غلامی کو رد کر دینا چاہيے.
اللہ کی غلامی میں آ جانے کے بعد ایک انسان ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے. اسی لئے صحابه كرام جب کسی ملک میں جاتے تو لوگوں تك اللہ کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہتے تھے “ابتعثنا الله لنخرج الناس من عبادة العباد إلى عبادة الله ہمیں اللہ نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو انسان کی پوجا سے نجات دلا کر اللہ کی عبادت کی طرف لائیں”.
جب مصر کے گورنر عمرو بن عاص رضى الله عنه کے بیٹے نے ایک مصری کي بغیر کسی وجہ کے پٹائی کی تو مصری نے اس وقت کے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضى الله عنه کے پاس اس کی شکایت کی، خلیفہ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو مدینہ بلایا، پھر مصری سے کہا میرے سامنے تم گورنر کے بیٹے سے ویسے ہی بدلہ لے لو، جس طرح اس نے تمہاری پٹائی کی ہے. پھر فرمایا : متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا “تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جب کہ ان کی ماؤن نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا”.
علی رضى الله عنه نے فرمایا: لا تكن عبد غيرك وقد جعلك الله حراً “اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے اس لئے کسی اور کی غلامی قبول مت کر .”
محترم سامعين ! دنيا جب ترقی کے دور میں داخل ہوئى تو غلامی کی مختلف شكلين ظاہر ہونے لگیں. اسلام دشمنوں نے آزادی کے نام پر غلامی کے بہت سارے طریقے عام کئے تاکہ لوگ ان کے خيالات سے متفق ہو جائیں پھر وہ جیسے چاہیں لوگوں کو پھیرتے رہیں. اس طرح آزادی کے نام پر غلامی کا تصور کو پھیلایا جانے لگا. لہذا کچھ لوگ خواهشات کے غلام بن گئے کہ خواهشات ہی انہیں حركت دینے لگی، اٹھانے بٹھانے لگی. کچھ لوگ روپيے پیسے کے غلام بن گئے کہ دین سے بے پرواہ ہو کر دنیا کمانے میں پوری طرح مصروف رہنے لگے. کچھ لوگ منشیات کے ایسے غلام بن گئے کہ اپنی جوانی اور دولت تک کو گنوا بیٹھے.
یہ کہنا کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر جو چاہو كرو یہ خیال بالکل غلط ہے. کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سگریٹ پینا حرام اس لئے ہے کہ اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتى ہے، اب اگر کوئی تنہائی میں سگریٹ پیتا ہے تو اسے اجازت دی جانی چاہیے. کوئی بند کمرے میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اسے صحیح سمجھنا چاہئے …
اللہ کی قسم! یہ شیطانی پھريب ہے. انسان تنہائی میں بھی آزاد نہیں ہوتا، وہاں بھی اللہ کی نگرانی اس کے ساتھ ہوتی ہے اور اس کے دائیں بائیں کندھوں پر فرشتے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں.
آزادى كا استحصال كرنے والى ايك بهيانك رسم بندھوا مذدوري بهي هے جو آج تک دنیا میں چلی آ رہی ہے، بندھوا مزدوری ہے. بھارت اور پاکستان سميت دنیا کے مختلف علاقوں ممالک میں بدھا مزدوری کی یہ بری رسم ایک سگين مسئلہ کے طور پر موجود ہے. اس بارے میں اسلام نے وہ اصول دیئے جن سے بندھوا مزدوری کے خاتمہ میں مدد ملتی ہے:
سب سے پہلے اسلام نے ظلم سے روک دیا. اسی طرح اسلام کسی کو بھی نقصان پہنچانے سے منع کرتا ہے. اسلام میں زندگی کا لطف کسی خاص ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ سارے انسان چونکہ اللہ کے بندے اور آدم و حوا کی اولاد ہیں اس لئے زندگی کے لطف سے محظوظ ہونا ہر ایک کا حق ہے. اول کسی آزاد انسان کو اس کی آزادی سے محروم کرنا جائز نہیں. نہ یہ جائز ہے کہ کسی انسان کو زبردستی روک لیا جائے یا اس سے اس کی مرضی کے خلاف کام لیا جائے. بلکہ اسلام نے تو مزدوروں کے ساتھ حسن معامله کی تاکید کی. مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم دیا. (ابن ماجه) اس بات کا بھی حکم دیا کہ مزدوری پوری پوری دی جائے اس میں کوئی کمی نہ کی جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم 0 نے فرمایا کہ “میں ایسے شخص کے خلاف قیامت کے دن حريف بن کر کھڑا هونگا جو کسی مزدور کو مزدوری پر رکھے اور اس سے پورا پورا کام لے لیکن اس کی مزدوری (پوری پوری) نہ دے “. (بخاری) اسلام نے اس بات کا بھی حکم دیا ہے کہ مزدور سے مزدوری طے کر کے ہی کام لیا جائے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: “جو کوئی کسی مزدور کو مزدوری پر رکھے تو چاہئے کہ اس کی مزدوری کو پہلے بتادے.” (آثارالسنن) یہ تعليم اس ليے دی گئى تاکہ مالدارون كے اندر سے استحصال کی ذہنیت ختم ہو-
اسلام ميں آزادى كا تصور
25 فبراير 2012 في 7:22 ص (1)
پنسل كی مثال
22 فبراير 2012 في 4:34 م (فيديو)
پنسل كى مثال
22 فبراير 2012 في 3:50 م (1)
پنسل بنانے والے نے شروع ہی میں پنسل سے کہا: اس سے قبل کہ میں تجھے دنیا میں بھیجوں‘ تجھے پانچ باتیں جان لینا ضروری ہے ۔ انہیں ہمیشہ یاد رکھنا تاکہ بہتر سے بہتر پنسل بن سکو۔
پہلی بات : تم بڑے بڑے کام کرنے پر قادر ہوسکتے ہولیکن ضروری ہے کہ کسی انسان کے ہاتھ میں چلے جاؤ۔
دوسری بات: بسااوقات تجھے تراشاجائے گاجس سے تجھے سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، اگرتجھے افضل قلم بننا ہے تواس عمل سے گزرنا تیرے لیے ضروری ہے ۔
تیسری بات: کسی بھی غلطی کاارتکاب کرنے کے بعد اس کی اصلاح کی تیرے پاس پوری قدرت ہے ۔
چوتھی بات: تمہارا اہم حصہ وہ ہوگا جو تمہارا اندروی حصہ ہے ۔
پانچویں بات: تمہارے حالات جیسے بھی ہوں تمہارے لیے لکھنے کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے ۔ اوراپنے پیچھے ہمیشہ’ خوشخط‘ چھوڑوخواہ حالات کتنے سنگین کیوں نہ ہوں۔
قلم سے جس چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا اس نے ان پانچ باتوں کو پوری طرح سمجھ لیا ،اوراپنے صانع کے ہدف کا پورا ادارک کرلینے کے بعد دنیا میں جانے کے لیے قلموں کے ڈبہ میں داخل ہوگیا ۔
عزیزقاری! اب آپ خود کو اس قلم کی جگہ پر رکھ کر سوچیں ،ان پانچ باتوں کو بالکل ذہن نشیں کرلیں، ان شاءاللہ افضل انسان بن سکیں گے ۔
پہلی بات: آپ بے شمار عظیم خدمات انجام دینے کے اہل ہوسکتے ہیں لیکن اس وقت جب خودکو اللہ کے تابع کردیں، اور مختلف صلاحیتوں کے مالک بن جائیں کہ لوگ آپ کا قصد کرنے پرمجبورہوجائیں ۔
دوسری بات: آپ کو بسااوقات تراشا جائے گا،اوراس میں آپ کو پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن قوی انسان بننے کے لیے آپ کے لیے ایسا عمل نہایت ناگزیر ہے ۔
تیسری بات: آپ اپنی غلطیوں کی اصلاح پر قادر ہوسکیں گے اور اس کے تناسب سے ترقی کے منازل طے کرسکیں گے ۔
چوتھی بات: آپ کا اہم حصہ ہمیشہ وہی ہوگا جو آپ کا اندرونی حصہ ہے ۔
پانچویں بات: کسی بھی راستے پر چل رہے ہوںاپنا اثر ضرورچھوڑجائیں ، اورحالات سے قطع نظر ہمیشہ دین کی خدمت پیش نظر رکھیں ۔
ہم میں سے ہرشخص پنسل کی مانند ہے جسے ایک خاص مقصداورمنفرد کام کے لیے تراشا گیا ہے ۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ غوروفکر سے کام لیں ، اوراپنے دلوں میں بنیادی ہدف کوبٹھاکراوراللہ رب العالمین سے تعلق مضبوط کرکےاس دنیا میں زندگی گزاریں ۔
آپ کى تخليق ایک عظیم ہدف کے لیے ہوئی ہے ۔
ایک جامع اور اطمینان بخش ویب سائٹ کی ضرورت
15 فبراير 2012 في 7:13 ص (دل كي باتين)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
امید کہ بخیر ہونگے،آپ اپنے اب تک کے دعوتی اور تعلیمی تجربات کی روشنی میں ایک احصائیہ پیش کیجیے کہ اب تک دعوتی اور اسلامی اشاعتی اور نشریاتی میدان میں ویب سائٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شکل میں ہندی اور اردو زبان میں کیا کچھہ ہورہا ہے اور مزید کس چیز کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ جو کام ہورہا ہے اس کا منفی پہلو کیا ہے تاکہ آئندہ اس کے تدارک کے لئے مثبت طور پہ اقدام کرنے میں آسانی ہو۔ کیا اردو اور ہندی میں ایک جامع اور اطمینان بخش ویب سائٹ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے؟
وجزاکم اللہ خیرا،
علاء الدین عین الحق مکی
مرکز وذکر
برادرگرامی قدر شیخ علاءالدین عین الحق مکی صاحب
و عليكم السلام ورحمة الله وبركاته
آپ کا ای میل موصول ہو ا، تاخیر کے لیے معذرت خوا ہوں، لیکن ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیربھی تھا بہرکیف میں آپ کے نیک جذبات کی قدرکرتا ہوں کہ آپ نے اسلامی ویب سائٹس کی ضرورت محسوس کی
آج المیہ یہ ہے کہ شیعوں ، قادیانیوں اور قبرپرستوں نے نیٹ پر دین کی خدمت کے نام سے زہر اگل رکھا ہے اور ہم ہیں کہ حق بات کو مٹھی میں بند کیے ہوئے ہیں ، جب میں اردو میں کسی موضوع سے متعلق سرچ کر رہا ہوتا ہوں تو اکثر گمراہ فرقوں کے مقالات سامنے آجاتے ہیں ، گویا نیٹ پر باطل کا پرچار حق کے نام سے ہورہا ہے ۔ افسوس کہ ہم اس معاملہ میں بہت پیچھے ہیں ۔
جس حدتک اردو اورہندی ویب سائٹس تک ہماری پہنچ ہوسکی ہے،ان میں سے اردو ویب سائٹس میں اسلام ہاوس ، الاسلام سوال جواب ، کتاب وسنت ڈاٹ کوم، صراط الھدی قابل ذکر ہیں ۔ اورہندی میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے ۔ معتبر ویب سائٹس میں اسلام ہاوس اورالاسلام سوال جواب ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔اور اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ اکثر ویب سائٹس کی زیارت کرنے والے عصری تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، جن کی معلومات اسلام کے تئیں سطحی ہوتی ہیں۔ جو شہوات اورشبہات کے نرغے میں بھی گھرے ہوتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں ان دو زبانوں میں ایک ایسے معیاری سلفی ویب سائٹ کی بیحد ضرورت ہے جس میں :
(1) اسلامی تعلیمات کو سہل انداز میں پیش کیا گیا ہو
(2) عقیدہ کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہو،اورانہیں پیش کرنے کا انداز مثبت ہو منفی نہ ہو۔
(3) اصلاحی موضوعات کے لیے عربی زبان میں دستیاب فولڈرس اور فلایرز کے ترجمے کیے گئے ہوں۔
(4) اسلام کے محاسن اوراس کی آفاقیت کو بیان کرنے والے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہو۔
(5) فروعی اختلافات پرمبنی موضوعات سے صرف نظر کیا گیا ہوکہ انہیں موضوعات کے ذریعہ ہماری پہچان ہورہی ہے اوریہی برصغیر میں اختلاف کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
(6) آن لائن فتاوی کے لیے ایک کالم خاص کیاگیا ہوجس میں برصغیر کے کسی عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو۔ اوراس کام کے لیے میری رائے میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد بہت مناسب ہیں ۔
(7) اسلام اوراہل اسلام کے تئیں پیش آمدہ عصری مسائل کا شرعی ناحیہ سے تجزیہ پیش کرنے کے لیے ایک تجربہ کار عالم دین کی خدمت حاصل کی گئی ہو ۔ جیسا کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کرتے ہیں ۔
(8) ویڈیوزپر مشتمل اچھے خاصے مواد فراہم کیے گئے ہوں، جس میں اگرعرب خطباء کی تقاریر کی بھی ڈبلنگ کی جائے تو بہت مناسب ہوگا ۔
والسلام