ذرا عمررفتہ کو آواز دینا

بچپن کازمانہ واقعی سرمستی اور بے کیفی کازمانہ ہوتا ہے ۔ ہرچیز سے بے فکر اور ہر معاملہ سے لا پرواہ ۔ نہ سود کی لالچ نہ زیاں کا خوف ، نہ مصیبت کا احساس نہ غم کا سوگ ، نہ اپنوں کا خیال نہ بے گانوں کا دھیان غرضیکہ ہر سود و زیاں سے بے پرواہ ہوکر ایک بچہ اپنی حیات وزیست کی نیا کو رواں دواں رکھتا ہے ۔
جیسا کہ معلوم ہے کہ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،ےہاں اگر اسے اچھے ڈگر پر کھڑا کر دیاجائے اور اس کے ذہن وفکر میں اخلاق حسنہ کا رس گھول گھول کر پلادیا جائے تو وہ آگے چل کر ہر جگہ کامیاب وفائز المرام رہے گا ۔ اس کے علی الرغم اگر اسے یہیں پر خود سری ونا ہنجاری کی تعلیم دی گئی اور اس کی تربیت خاطرخواہ طریقے سے نہ کی گئی تو آگے چل کر اس کی پوری زندگی بھی ناتراشیدگی کا آئینہ دار ہوگی کیوں کہ
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
یہ بندہ بھی انہیں چند تلخ حقائق سے دوچار ہوا ،چونکہ بچپنے کی زندگی غیروں کے سایے میں گزری اور ماں کی ممتا سے محروم رہا ، ہوا یوں کہ راقم السطور کی پیدائش کے سال ہی ماں ماو¿ف العقل ہوگئی ، اب ایسی نازک حالت میں انہیں کیا پڑی تھی کہ میرا بچہ کہا ں ہے تاہم بھائی بہنوں اور نانا نانی (یغفر اللہ لھما وجعل الجنة مثواھما) کی جانثاری وقربانی کی بدولت میں اچھے ڈھنگ سے تربیت ہوتی رہی ۔ زندگی کا قافلہ جادہ¿ پیما ںرہا، جب سن شعور کو پہنچا اور رطب ویابس میں تمیز کرنے کے قابل ہوا تو بڑے بھائی کی تربیت بھی نصیب ہوئی ، اس وقت وہ مدرسہ مدنی بسہیا شیخ میں زیر تعلیم تھے ۔ چونکہ ہم سب ابھی بچے تھے ، جس کے باعث مجھے مدرسہ نہ لے جایا جاتا البتہ گھر پر ہی بھائی جان اپنی نگرانی میں پڑھایا کرتے تھے اور ہم سب الف با کی رٹ لگا تے تھے ۔ لیکن ہم جس ماحول میں پرورش پا رہے تھے وہ تھا نہایت کندہ ناتراش ، جہالت کا آئینہ دار، جہاں دیکھیں وہاں عورتیںبکواس میں لگی ہیں، جہاں جائیں وہاں بچے گالم گلوچ کر رہے ہیں ، ہر جگہ شتر بے مہار کی طرح بھٹکتے پھر رہے ہیں ، اور ایک بچہ پر ماحول کا خاصا اثر پڑتا ہے اس وجہ سے مجھے بھی ان بچوں کی صحبت سے یارا نہ رہا اور بھائی جان کی عقابی نگا ہ سے نگرانی کے باوجود ہم نے پڑھائی سے بالکل کناہ کشی اختیار کرلی ۔ اور انہیں شرارت پسند بچوں کی صحبت میں پورا دن گزار دیا کرتا ، بھائی جان میری شرست دیکھ کر آگ بگولا ہوجایا کرتے اور فوراً ڈانٹ پلاتے ، گاہے بگاہے گوشمالی بھی کر دیا کرتے تھے ، لیکن بچہ بچپن میں ہر طرح کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے ، اس لیے مجھے کیاپڑی تھی بھائی جان کی سزا کی ، بس ایک ڈنڈا کھا لیا اور ع
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے جو اب تک ذہن میں بٹھا ہوا ہے کہ مدرسہ نہ جانے کے جرم میں بھائی جان نے کان پکڑکر کسرت کروایا اور بلغم بھی چاٹنے پر مجبور کیا تھا تاہم میری طبیعت گوارہ نہ کی بالآخر انہوں نے معاف کر دی ۔ اس وقت مجھے تو احساس توضرور ہوا اور سبکی بھی ہوئی لیکن سر پر چونکہ خودسری کا عفریت سوار تھا اس لیے دوڑا دوڑا فوراً گھر آیااور ٹسوے بہاتے ہوئے اماں کو شکایت کردی ،اب اماں کو اتنا سننا تھا کہ چراغ پا ہوگئیں اور لگیں بھائی جا ن کو کڑوی کسیلی سنانے ۔ اس وقت دل ہی دل خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا کہ چلئے ہم نے سب بدلہ چکا لیا (باقی آئندہ )

اترك رد

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / تغيير )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / تغيير )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / تغيير )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.