آج ہمارے کتنے مسلم بچے جو قوم کے لیے گرانقدر نعمت ثابت ہوسکتے تھے لیکن صحیح رہنمائی نہ ملنے یا والدین کی جہالت اور نادانی کی بنیاد پر قوم کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ مزید پیچھے جارہا ہے ،مسلمانوں کی اقتصادی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، غربت کی شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ،کوئی بھی قوم تعلیم کی بنیاد پر ہی ترقی کرتی ہے آج ہندوستانی مسلمان تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے ہی غربت کے شکار ہیں ۔ چونکہ اکثر والدین غیر تعلیم یافتہ ہیں جس کی وجہ سے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ شعور آتے ہی بچوں كو کمانے کے لیے دلی بمبئی بھیج دیں ۔ خود بچے اپنے معاشرے میں ایسے ہی لوگوں کی کثرت دیکھتے ہیں جو دلی بمبئی میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ کچھ کماکر لوٹتے ہیں تو تمباکو نوشی کے عادی بن کر آتے ہیں ،اپنے ساتھ ٹیلیویزن ضرور لاتے ہیں ،پھر پنٹ شرٹ پہن کر دیہاتی ماحول میں گھومتے اور اردو چھانٹتے رہتے ہیں ۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھ ۔ جاہل والدین بھی خوش کہ چلو میرا بیٹا ا ب کمانے لگا ہے ۔ چھوٹے بچے بھی ان کی حرکات سے مرعوب …. يھ ننهے بچے بهي ان سے متاثر هوے بغير نهين رهتے چنانچه شعور آتے ہی والدین پر دباؤ ڈالنا شروع کردیتے ہیں کہ مجھے بھی کمانے جانا ہے۔ اگر والدین کے اندر تعلیمی شعور ہوتا تو بچے کی صحیح سمت میں رہنمائی کر سکتے تھے لیکن وہ تو کچھ کرنے سے رہے ۔
ایسے نازک حالات میں امت کے ارباب بصیرت ، جمعیات اور تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اجتماعی شکل میں تعلیمی بیداری مہم چلائیں ، گھر گھر جاکر گارجین کو قائل کرائیں کہ تعلیم کے بغیر ان کی اقتصادی حالت کسی صورت میں سدھر نہیں سکتی بلکہ خراب سے خراب تک ہوتی جائے گی ۔ ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ کرایاجائے اور سکولوں کے مسلم اساتذہ کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ قوم مسلم کی ان کھلتی کلیوں پر دھیان دیں۔ قوم کے خوشحال لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریب بچوں کی تعلیمی کفالت کرکے انہیں گھر سے بے نیاز کریں ۔ کم ازکم اپنے رشتے داروں کے بچوں کی طرف بھی دھیان دے دیا تو دس بارہ سال میں مسلم سماج بہت آگے نکل جائے گا ۔ اميد كہ میری آواز صدابحرا ثابت نہ ہوگی ۔